প্রশ্ন:
শরীরে ট্যাটু আঁকানো জায়েয আছে কি না ?
باسمه تعالى
حامدًا ومصليًا ومسلمًا
উত্তর:
শরীরে ট্যাটু আঁকানো জায়েয নেই।
الادلة الشرعية
الصحيح البخارى . رقم (5944)
عن ابى هريرة قال : قال رسول الله ﷺ :- العين حق و نهى عن الوشم
فتح البارى (10/419) رقم (5931)
و قد يكون فى اليد وغيرها من الجسد . و قد يفعل ذلك نقشًا . و قد يجعل دوائر . و قد يكتب اسم المحبوب . و تعاطيه حرام بدلالة اللعن
فتاوی قاسمیہ (23/510) مکتبۃ اشرفی
سوال : ٹائے ٹوس (جو ایک طرح جسم پر نقش و نگار ہو تا ہے ۔ اس میں گدوانا نہیں ہوتا صرف ایک کاغذ کو جس پر نقش و نگار ہونا ہے َجسم پر چسپاں کرتے ہیں ۔ پھر کچھ دیر بعد اس کا غذ کو جسم سے الگ کردیتے ہیں ﭐﭐ جس کی وجہ سے اس کاغذ کا نقش جسم پر ظاہر ہوجا تا ہے ) تو کیا اس طرح جسم کے کسی بھی حصہ پر نقش و نگار کی اجازت ہے ؟ کیا یہ تغیر خلق میں داخل ہے ؟
جواب : حدیث شریف میں گداوا نے کی مذمت آتی ہے اور اس کو شیطان کی کتابت سے تغیر کیا ہے ۔ اور ٹائےٹوس کا نقش گدوائے بغیر اگر چہ جسم پر چسپاں ہو جاتاہے ۔ لیکن جسم پر چسپا ہوجانے کے بعد گدوانے کے مشابہ ہو جا تاہے ۔ اس لئے یہ بھی جائز نہیں ہے ہوگا
واللہ اعلم بالصواب